پچھلی رات  میاں صاحب کے لاہور میں ایک انخابی جلسے میں تقریر کے بعد جب ان کی تقریر کے مندرجات ٹی وی چینلز کی اسکرین پر پٹیوں کی صورت چل رہے تھے۔اسی دوران جلسے کے انتظامات میں سرکاری مشینری کے بھرپور استعمال اور روشنی کے لئے چوری کی بجلی کے استعمال کی خبر بھی گاہے گاہے ان  پٹیوں کا حصہ تھی۔۔دوسری طرف شیخ رشید اے آر وائی پرایک پروگرام میں چیختے چھنگاڑتے نظر آرہے تھے۔میاں صاحب کی پوری تقریر وفا اور بے وفائی کی رومانوی اصطلاحات ، کرپشن اور سوئس اکاءونٹس  اور تبدیلی کی خواہشات کے گرد گھوم رہی تھی۔ میاں صاحب کا پورا سیاسی کیرئراسی طرح کی چند اصطلاحات کا اسیر رہا ہے۔اپنے سیاسی کیرئر کے مختلف اسپیلز میں ان کی قوت بیان ہمیشہ  محدود الفاظ و اصطلاحات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ بارہا اس میں کچھ ترمیم و اضافہ ہوتا رہا ہے۔ میاں صاحب کی سیاسی ڈکشنری میں  ان الفاظ کا اضافہ و ترمیم ان کے سرپرستی کرنے والے انڈیویژیولز اور ان کی ہمراہی کرنے والے سیاسی بازیگروں کے مرہون منت رہا ہے۔

جب ان کے ابتدائی کیرئر کا آغاز تحریک استقلال سے ہوا تو اپنے پیش رو جناب اصغر خان کے زیر اثر بھٹو دشمنی کا ابتدائی نصاب مکمل کیا ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے شارٹ ساٹٹڈ نیس کا شکار احباب یا سیاسی تاریخ کے حوالے سے سیلیکٹیو ایمنیزیا کے شکار احباب کو شاید علم نہ ہو کہ بھٹو شہید کے جوڈیشل مرڈر کی کاروائی کے دوران یہ اصغر خان ہی تھے جنہوں نے سیاسی جلسوں میں ان کی پھانسی کا مطالبہ کیا تھا۔سیاسی جلوسوں میں عدالتی مطالبوں کا فن میاں صاھب نے ان ہی سے سیکھا ہےواللہ اعلم

اصغر خان صاھب کے ہاں ابتدائی علوم کی تکمیل کے بعد آپ جنرل جیلانی کے طفیل اپنے محسن ضیا ء الحق کے ہاں حاظر ہوئے اور زانوئے تلمذ طے کرکے اپنی بی مثل وفادارانہ صلاحیتوں کے طفیل پہلے جاں، پھر جان جاں اور پھر جان جاناں ہوگئے۔وفا کا استعارہ شاید میاں صاحب نے وہی سے مستعار لیا ہے۔

سگمنڈ فرائڈ نے انسان کی شخصیت کی تشکیل میں اس کے بچپن کو بنیاد ٹہرایا ہے اور اور یہ کہا ہے کہ ان اثرات سے انسان پھر پوری عمر جان نہیں چھڑا پاتا میاں صاحب بھی اپنے سیاسی عہد طفولیت کے ابتدائی سالوں کے ضیا ء مرحوم کے اثرات سے چھٹکارا نہیں پاسکے یا شاید وہ اس کے زیادہ خواہش مند نہیں ہیں کہ ضیا ء مرحوم کی سیاسی وراثت کے اثرات ہی ان کی سیاسی فکر کے بنیادی اوصاف ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت سے بیر، سیاسی مذہبیت کا فروغ واستعمال  اور اختیارات کے ارتکاز کے حوالے سے ایتھا ریٹیرین طرز فکر ، بیورو کریسی پر انحصار اور سیاسی نمائندگان پر عدم اعتماد اسی سیاسی فکر کا نمونہ ہیں۔

دو مرتبہ اپوزیشن اور دو مرتبہ اقتدار میں رہنے کے دوران پیپلز پارٹی سے دشمنی ،مذہب کے سیاسی استعمال ، کرپشن کے الزامات کے آزمودہ حربوں کے ذریعے مخالفین کی تادیب اور اختیارات کے اپنی ذات میں ارتکاز کی خاطر ہر ایک سے دشمنی لینے کی روش اسی طرزفکر کا شاخسانہ ہے۔ سب سے بڑی غلطی تو ان سے تب ہوئی جب وہ فاروق لغاری کی قائم کردہ نگراں حکومت کے تحت ہونے والے مینڈیٹ کو اتنا حقیقی سمجھ بیٹھے کہ فوج سے بھڑ گئے  اور اٹک قلعے پہنچ گئے وہ تو بھلا ہو ان کے مہربانوں کا کہ انہیں جدّہ میں محفوظ کر لیا تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں۔ ،

حالات کی گردش نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے مل بیٹھنے پر مجبور کیا۔میثاق جمہوریت کی دستاویز وجود میں آ ئی  سیاسی ٹرانزیشن کا عمل ہوا جس کے نتیجے میں پہلے بی بی اور پھر میاں صاحب کی واپسی ہوئی۔بی بی کی المناک موت کے بعد ان کی قبر پہ جا کر ان کے مشن کی تکمیل کا عزم کیا۔ وہ تو بھلا ہو پیپلز پارٹی کا جو اس صدمہء جانکاہ سے سنبھل گئی ورنہ بی بی کے مشن کا بھی میاں صاھب نے وہی کرنا تھا جو ضیاء مرحوم کے مشن کا کیا اور آج حالت یہ ہے کہ سوائے اعجازالحق کے کوئی ضیاء کا نام لینے کو تیار نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب آصف زرداری سے گریزاں اور بی بی کے خلاف قائم کئے گئے سوئس مقدمات  کے ریوایول پر مصر ہیں۔

ضیاء مرحوم  اپنی وراثت میں میاں صاحب کے لئے اپنے قابل سپوت اعجاز الحق کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی بھی چھوڑ گئے تھے۔ میاں صاحب نے کچھ عرصہ تو یہ ساتھ جاری رکھا پر شاعر کے بقول

کسی بندھن سے پیروں کی شناسائی نہیں ہوتی

یہ رومانس چل نہ سکا اور میاں صاحب جماعت اسلامی کے چند نعرے اور قابل سپوت  مستعار لے کر چلتے بنے اور قاضی صاحب کو اپنا الگ چوپال بنا کر الگ کھڑاکیں نکالنی پڑیں۔پر کیا کیا جائے کہ نعرے اور قابل فرزندان تو میاں صاحب لے اڑے اور قاضی صاحب کو پاسبان اور شباب کی نئی نرسریاں لگانی پڑگئیں۔

اب میاں صاحب جنرل ضیاء کی فکری میراث اور جماعت اسلامی کے عطا کردہ کیڈر کے سہارے مسلم لیگوں کی تاریخ کی سب سے سے کنسیسٹنٹ مسلم لیگ کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ جس طرح ضیاء دور کے زیر اثر میاں صاحب موقع پرستانہ سیاسی مذہبیت سے متعارف اور بعد کے ادوار میں بہرہ ور ہونے کی وجہ سے آج تک جماعت اسلامی سے دامن نہیں چھڑا پائے اسی طرح سے مشرف کے ہاتھوں زیر عتاب رہنے کے دوران میا ں صاحب ان کی مخالفت ، پی پی پی کی صحبت اور کچھ قومی اور بین الاقوامی معروضیتوں کے باعث مایں صاحب جمہوریت، رول آف لاء، سول سوسائٹی اور فری جوڈیشری جیسی نامانوس اور ان کے فکری پس منظر سے متصادم تصورات سے متعارف ہوگئے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی ان کے ماضی قریب کا اہم حصہ ہونے کے ناطے وہ ان تصورات سے جڑے رہنے پہ مجبور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ان سے ماضی کے رشتوں میں جڑا ان کا فطری اتّحادی دایاں بازو یعنی جماعت اسلامی اور عمران خان ان کی ہمرکابی کا خواہش مند ہے تو دوسری طرف سول سوسائٹی کا وہ حصہ جو  میاں  صاحب سے فکری یکسانیت نہ ہونے کے باوجود میاں صاحب سے امیدیں لگائے رکھنے اور ان کے ہم آواز  ہونے کا آرزو مند ہے۔

میاں صاحب بھی اپنے سیاسی تجربات کی روشنی میں کبھی ایک تو کبھی دوسرے طبقے کی داد سمیٹنے کے لئے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ان کی اسی سیاسی ذہانت کا کمال ہے کہ جب وہ پنجاب میں جہا دیوں اور انتہا پسندوں کی سرگرمیوں سے صرف نظر کرتے ہیں تو اسے درگزر کیا جاتا ہے تو دوسری طرف جب وہ  داخلی معاملات پربین الاقوامی قیادت کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرتے  ہوئے ان کے موقف سے ہم آہنگی پران سے تعریفی اسناد پاتے ہیں تو اس بات پر بھی ان سے امید لگائے طبقات زیادہ سیخ پا نہیں ہوتے۔

دو انتہاوءں کے بیچ میاں صاحب کا یہ سفر کب تک چلتا ہے اس پر تو کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ امر تو طے ہے کہ ان کی شخصیت نے مسلم لیگ کی سیاسی معروضیتوں سے ہم آہنگی کی صلاحیتوں کے باعث مسلم لیگ کو وہ استحکام عطا کیا ہے جو کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ساٹھ سالوں میں کسی مسلم لیگ کو نصیب نہ ہوسکا ۔